باڑ

میں  فتح ہونا چاہتی ہوں
مگر

میں مفتوح نہیں بن سکتی
دوست

مجھے فتح کرو
اپنی سوچ اور جذبات  کی بنیاد پر
اپنے ذہن اور دل کی بنیاد پر
میں تم سے پیار کر سکتی ہوں
مگر
برابری کی بنیاد پر

مجھے مفتوح علاقہ سمجھ کر
میری حدبندی کرنے کی کوشش نہ کرو

میرے گر دائروں کی طرح باڑ نہ لگائو
یہ سچ ہے

میں تم سے پیار کرتی ہوں
مگر
اپنی آزادی سے کم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Published in: on جون 30, 2011 at 3:46 شام  تبصرہ کریں  

رسائی اور نارسائی

 

دن اور رات کے بیچ
شام ہوتی ہے
سیاہ اور سفید کے بیچ
سرمئی
یقین اور بے یقینی کے بیچ
امید
دعا اور ثمر کے بیچ
انتظار
اس کے جانے اور آنے کے بیچ
کسک

اور اس رسائی اور نارسائی کے بیچ
کیا ہوتا ہے?
اور اس کے ہونے اور نا ہونے کے بیچ
کیا ہوتا ہے?
اور اس جینے اور نہ جینے کے بیچ
کیا ہوتا ہے?
اور اس کی سانسوں اور خوشبو کے بیچ
کیا ہوتا ہے?
اس کے جسم کی پور پور میری ہے اور
وہ کہیں  اور ہوتا ہے?
تم ہی بتائو دوستو
یہ کیا ہے اور کیوں ہوتا ہے

Published in: on جون 30, 2011 at 3:09 شام  تبصرہ کریں  

اک اور ماں جو اب نہ رہی

وہ میری ماں تھیں مگر میں ان کی بیٹی نہیں بہو تھی مگر ان کا اس دنیا سے جانا اتنا ہی تکلیف دہ تھا جتنا میری اپنی ماں کا، بلکہ شاید زیادہ ہی۔ میری اپنی ماں ایک شام اچانک ہی اس دنیا سے چلی گئی تھیں مگر اپنے جانے کی تیاری وہ ڈھائی سال پھلے میرے ابا کی وفات کے بعد سے ہی کر رہی تھیں جب ابا گئے تو امی نے اچانک ہی بہت ہی بہت سے رکے ہوئے غیر ضروری اور ضروری کام کرنا شروع کر دئیے مثلا دروازے کی گرل ، قالین کا انڈر لے ، کپڑوں کی شاپنگ-

اس وقت وہ تمام کام نہایت بے معنی لگے ہم ان پر غصہ بھی ہوتے تو وہ کہتی میرے پاس وقت کم ہے- اور پھر ٹھیک ڈھائی سال بعد وہ اک دن اچانک ہمیشہ کے لیے  چلی گئیں-

ان کوئی طوہل بیماری نہ ہی کچھ اور چونکہ میں آفس جاتی تھی اس لیے  میرے بچے ان ہی کے پاس ہوا کرتے تھے لیکن ان کے وفات کے ایک ہفتہ کے اندر اندر یہ احساس ہو گیا کہ صرف ماں کہ وہ مرکز ہوتی ہے جو  تمام رشتوں کو جوڑ کر رکھتی ہے- کیا بھائی کیا بہن، خالہ ماموں، جاجا۔۔۔۔۔۔۔ ماں نا ہو تو کوئی رشتہ ویسا نہیں رہیتا- رہیتا بھی ہے تو ہلکا، بے وزن اور نام کا-
ماں کے ایک ھفتہ کے بعد ہی میرے بچوں نے اپنے گھر میں اکیلا رھنا سیکھنا شروع کردیا اس وقت ان کی عمریں صرف آٹھ اور پانچ سال تھیں مگر مجھے فخر ہے کے پچھلے سولہ سترہ سالوں سے وہ یہ کام باآسانی کر ریے ہیں

لیکن ان تمام سالوں میں جو دوسرہ رشتہ مضبوط ہوا وہ میرے لیے ساس/ماں کا اور بچوںکے لئے دادی کا  تھا-  ان کی ہم نے اتنی خدمت بے شک نہیں کی مگر محبت ضرور کی- ان کی طویل بیماری،  لمحہ لمحہ موت سے لڑتے اور قریب جاتے دیکھنا وہ احساس تھا جو تکلیف سے پر تھا پچھلے کافی عرصے سے میں جب بھی ان سے ملی وہ بہت محبت سے ملی اور تقریبا ہر بار وہ میرے ماں باپ کو ہاد کرتی، اپنی پوتیوں کو دیکھ کر بے حد خوش ہو جاتیں بھت سی دعائیں دیتیں-
جب ٹھیک تھیں تو کہتی تھیں "بہن (میری امی) تے خوب صورت سی گی تو تے اودے ورگی نھیں” مگر ان آخری سالوں میں میں جملہ بدلتا کچھ عرصے پہلے کہنے لگیں "بہن بھت چنگی سی گی تیری ناک اناں دے ورگی اے” میں اس دن بھت خوش ہوئی مجھے لگا امی اب مجھے اب بہو سے بڑھ کر ماننے لگی ہیں- شدید بیماری میں بھی ہر ایک سے کہتی "چا پی لو اچھا  پانی پی لے”
وہ تھیں تو لگتا تھا اک گھر ایک ٹھکانا ایک مرکز ابھی موجود ہے کوئی ملے نہ ملے، بات کرے نہ کرے ماں تو ہے-
مگر ان کے جانے سے ہوں لگ رہا ہے اک بار پھر مرکز ختم ہو گیا- ایک گھر ختم ہو گیا-

اب نثار شام جلدی گھر آجائیں گے، اب بچے ویک اینڈ پر کس سے ملنے جائیں گے- اب عید پر ہم کس سے ملیں گے- اب میں عیدی کس سے لوں گی- اب ہمیں کسی کی فکر نھیں ہو گی-
-اب بچے اپنے امتحان اپنی خوشیوں سے پہلے اور بعد میں کسی بزرگ سے دعائیں نہیں لے سکیں گے-
ہم سب  آپس میں لڑیں گے تو اخلاقا بھی ملنا نھیں پڑے گا، اب سب اپنے اپنے گھروں میں اکیلے تنھا خوش (ناخوش) رہیں  گے-
اب میں تنہا ہونے کی کہانی پھر سے دیکھوں گی-
اک اور مرکز  جو ختم ہو گیا- –

Published in: on مئی 29, 2011 at 12:31 صبح  تبصرہ کریں  
Tags:

زندگی

ہاتھوں سے پھسلتی زندگی
برف سی پگھلتی زندگی

مٹھیوں میں بند ہوتی نہیں
ست رنگی تتلیوں سی یہ زندگی

اتنا تو  پتا ہے

تو رنگ ہی بدلے گی مٹ نہ پائے گی

دور افق پہ  دیکھو دھنک سی یہ زندگی

رات کی چادر پھیلتی جائے جب
ٹمٹاتی جاتی ہےسحر سی یہ زندگی

Published in: on مئی 19, 2011 at 8:26 شام  تبصرہ کریں  

اور انصاف مکمل ہو گیا۔۔۔۔

….justice has been served اور انصاف مکمل ہو گیا۔۔۔۔

کیا واقعی انصاف ہو گیا اور  تیس ھزار سے زیادہ معصوم پاکستانی شہری جنہوں نے خامخواہ اپنی جان دی ۔۔۔ ہزارہا بے قصور افغانی، عراقی، شہری جو حصول انصاف کی راہ میں اپنی جانیں گنوا بیٹھے تاکہ امریکا یہ ثابت کرسکے کہ اس کی طرف آنکھ اٹھانے والوں کا انجام کتنا بھیانک ہو سکتا ہے-
ان سالوں میں پاکستان کی قسمت بھی مجاہدین سے دہشت گرد بننے والوں کی بالکل ہی بدل کر رہ گئی

وہ لبرل ملک نہ جانے کہاں کھو گیا جہاں خانم گاگوش کا ترنم اور تارا گھنشام کا رقص ہوا کرتا تھا-
بچا تو صرف بندوقیں اور مدرسے۔۔۔۔
ٹوٹے حوصلے، کرچی کرچی خواب، خوف جو ہر وقت ہر دم ہو کسی پر چھایا رہیتا ہے۔

گلی گلی گونجتی گولیوں کی آوازیں، بموں کے دھماکے، اور ایمبولنیسوں کے سائرن

یہی انعام ہے جو ہمیں دھشت گردی کی خلاف جنگ میں ملا اور ابھی مزید کتنا ملے گا یہ بھی وقت بتائے گا-

 مجھے اسامہ کے مرنے کا دکھ ہے نہیں مجھے امریکا کی اس کامیابی کی خوشی ہے نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔

مگر جب امریکی عوام کو ناچتے دیکھا اور ہیلری کلینٹن کا فرمان سنا تو اندر بہت کچھ ٹوٹ گیا۔۔۔11- 9   میں مرنے والے تین ھزار افراد کا دکھ اپنی جگہ مگر ہہاں  روز مرنے والوں کا پلڑا کچھ بھاری سا لگا،

اک سوال اور جو پریشان کر رہا ہے، کیا سپر پاور امریکا اتنا نکما ہے کہ دس سال اک آدمی کو نا ڈھونڈ سکا اور اس کے نام پر ہماری دنیا جہاں کو تہہ و بالا کر دیا، یا اسامہ واقعی اتنا شاٰطر تھا کہ اس کو ناکوں چنے چبواتا رہا۔۔۔۔ اور مر کر بھی ان کے لیے اتنا خطرناک رہا کہ اس کو نامعلوم  پر دریا برد کرناپڑا۔

ویسے تاریخ گواہ ہے مسلمانوں کے ہیروز کا انجام ہمیشہ حسرت ناک ہی ہوا ہے۔

Published in: on مئی 3, 2011 at 12:42 صبح  تبصرہ کریں  
Tags: , , ,

سایہ

دکھ اک سائے کی طرح
ہر دم میرے  ساتھ رہتا ہے
دن کے ہر پل میں گھٹتا بڑھتا رہیتا ہے
کبھی پیروں تلے اور کبھی قد سے اونچا

سائے اور دکھ میں
ذرا ہی فرق ہوتا ہے
سایہ اندھیروں میں ساتھ چھوڑ جاتا ہے
دکھ،
اور بڑھ جاتا ہے

Published in: on اپریل 21, 2011 at 10:41 شام  تبصرہ کریں  

اٹھارہ اکتوبر،کراچی کا ایک المناک دن

اکتوبر شروع ہوتے ہی اک بے چینی بھی شروع ہو جاتی ہے، جو بڑھتے بڑھتے وسط اکتوبر تک ڈپریشن میں بدل جاتی ہر سال میں اسے نئے معنی دینے کی کوشش کرتی ہوں نئے بہانے تراشتی ہوں مگر دل اداس ہی رہیتا ہے-
یہ نہیں تھا کہ وہ واقعہ ہمارے ملک کا پہلا یا آخری واقعہ تھا مگر اتنے قریب سے ہم نے پہلی اور امید ہے کے آخری مرتبہ ہی دہکھا تھا-
وہ سترہ اور اٹھارہ اکتوبر کی درمیانی رات تھی میں کسی شوٹ پر تھی شوٹ ختم ہوتے ہوتی رات کی ڈھائی بج گئے دل میں اک ڈر بھی تھا کہیں حالات خراب نہ ہو جائیں کہیں کوئی ہنگامہ نہ ہو جائے ایم کیو ایم کے شہر میں بے نظیر آ رہی
تھیں انہیں اگلی
صبح پہچنا تھا- میں دل میں دس اندشے لیے گھر روانہ ہوئی- میرے ساتھ میری اسسٹنٹ بھی تھی بڑی زندہ دل لڑکی ہے ہر مستی ہر شوخی کے لئے ہر دم تیار، کبھی کبھی تو اسے روکنا مشکل ہو جاتا ہے

کراچی شہر عموما راتوں کو بھی جاگتا رہتا ہے رات کے کسی بھی پہر گاڑیاں اور لوگ نظر آتے رہتے ہیں، مگر اس رات شہر کچھ زئادہ ہی جاگا ہوا تھا- جگہ جگہ محترمہ کو خوش آمدید کہنے کے لیے لوگ تیاریوں میں مصروف تھے- اسٹال لگ رہے تھے لوگ جا بجا موجود تھے فضا میں اک ہی گونج تھی
چلے تیر بجاں الے، جلے دشمناں پہ ابو۔۔۔۔
جیے جئے جئے  بھٹو بے نظیر

اس گانے کی لہک ہی ایسی ہے کہ سب بے قرار ہو جاتے ہیں کارساز کی قریب میں بھی بے قرار ہو گئی میں نے اپنی اسسٹنٹ سے کہا یہاں بھت چہل پہل ہے لرگ رقص کر رہے چلو  کچھ دیر یہاں رکتے ہیں، وہ بولی کیا ہو گیا ہے باس پاگل ہو گئی ہیں گھر چلو کچھ بھی ہو سکتا ہے، ساتھ کے باقی لوگوں نے رکنے سے انکار کردیا تو میں گھر کو چل پڑی مگر یہ رونق دل میں روشنی سی کر گئی-  گھر پہنچنے تک ہر جگہ اسی گانے کی گونج ساتھ تھی-
پھر تمام رات ٹی وی چینلز پر یہ سب کچھ دیکھا- صبح صبح اٹھ کر پھر ٹی وی کے آگے بیٹھ گئے ائرپورٹ پر دنیا سمٹ آئی تھی پھر میں نے دیکھا نثارتیار ہو کر کہیں جا رہے تھے پوچھا کہاں جا رہے ہیں بولے جاوید آیا ہے اس کے ساتھ ذرا شھر دیکھیں گے میں تو رات سے بے قرار تھی، میں نے ساتھ چلنے کو کہا تو انہوں نے صاف انکار کردیا تو میں اور میری ایک بیٹی منہ بسور کر رہ گئے

دوسری بیٹی کو اس قسم کے شوق نہیں ہیں- صبح تو لگتا تھا فضا میں صرف ایک ہی گوبج ہے بھٹو بے نظیر،،،،،،، ٹی وی چینلز پر دیکھ دیکھ کر دل مچلتا رہا پھر بی بی کراچی پہنچیں منٹوں کا فاصلہ گھنٹوں میں طے ہوتا رہا-
کچھ گھنٹوں بعد نثار واپس آئے تو انہوں نے بتایا وہ ائرپورٹ گئے تھے بتاتے
رہے لوگ کتنے خوش ہیں کتنے پرجوش ہیں گویا انقلاب آ ہی گیا ہے- لوگ سڑکوں پر والہانہ ناچ رہے ہیں، آخری بھٹو کو خوش آمدید کر رہے ہیں، ہر سمت نعرہ ہے

زندہ ہے، بھٹو زندہ ہے،

مجھے یاد ہے کہ 86 میں جب بی بی کراچی آئیں تہیں تو  تب بھی ایسی ہی کیفیت تھی مگر اتنا ڈر خوف نہ  تھا جب ہر روز بم ہوں نہ پھٹنے تھے، جگپ جگہ بات بے بات فائرنگ نہیں ہوتی تھی- اس زمانے میں میری شادی ہوئے کچھ ہی عرصہ ہوا تھا میں ماں بننے والی مگر اس حالت میں بھی ہم جلوس کے آگے پیچھے بہت دیر تک چلے تھے- مگر 2007 میں صورت حال مختلف تھی-

اب ملک میں ھردم اک خوف سا چھایا رہتا ہے کہ کب کبھ ہو جائے گا-

مگر اٹھارہ اکتوبر کر لگتا تھا لوگ ہر خوف سے آزاد ہو چکے ہیں اور بس خوش ہیں،
ہمارے بچوں نے تو کبھی یہ سماں دیکھا ہی نہ تھا آمریت کی سایوں میں بڑے ہوئے تھے میری بڑی بیٹی بھی صبح

سے بے قرار تھی امی باھر چلیں نا امی باھر چلیں نا سب لوگ ناچ گا  رہے استقبال کر رہے ہیں

کچھ نہیں ہوگا آخر سارا شھر بھی باھر نکلا ہوا ہے ہم بھی باھر چلتے ہیں گیارہ ساڑھے گیارہ کے قرہب بی بی کا جلوس کارساز سے کچھ پیچھے تھا تو ہم گھر سے نکل پڑے میری چھوٹی بیٹی باھر جانے کو تیار نہ تھی مگر ہم نے اسے بڑی مشکل سے تیار کیا کہ چلو گاڑی سے ہی دیکھ لینا باھر نہ نکلنا جابجا ٹولیاں اور چھوٹے جلوس کارساز کی ہرف جا رہے تھے اک گھما گھمی تھی-
لال قلعہ ھوٹل کے قریب گاڑی پارک کر کے شاھراہ فیصل کی طرف بڑھے روڈ کی دوسری جانب ایک استقبالیہ کیمپ لگا ہوا تھا وہاں کی پرجوش فضا دیکھ شامین میری چھوٹی بیٹی بھی گاڑی سے اترنے کو تیار ہوگئی اور پھر تو گویا بھول گئی کہ اس کو نہیں آنا تھا اک دم گویا جوش سے بھر گئی ایس سماں بھلا بچوں نے پہلے کب دیکھا تھا

پہلے ہم استقبالیہ کیمپ کی جانب بڑھے
چلے تیر بجاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔  لوگوں  کا رقص، نعرے  بیچ میں سنا بی بی کا جلوس پہنچ رہا ہے لال قلعہ والی روڈ پر ہم روڈ کے بیچ ٹھیک اسی جگہ کھڑے ہو گئے جہاں دوسرا دھماکہ ہوا تھا لوگوں کی بے انتہا بھیڑ تھا مگر  کوئی بدتمیزی دھکم پیل نہ تھی مگر ہمارے ساتھ دو بیٹیاں تہیں تو ہم نے سوچا چلو پل کے قریب روشنی میں چلتے ہیں باقی تمام علاقے کی اسٹریٹ لائٹس بند تھیں جانے کیوں ?

سڑک کے دوسری جانب پہنچے تو نجم الحسن عطا اور ان کی بیگم ملے ان سے باتیں کر کے آگر چلے مگر حیرت ہو رہی تھی کے آنے جانے والوں کی روک ٹوک چیکنگ کچھ نہ تھی بسیں گاڑیاں سب وہاں پارک تھیں ہم حیرت کرتے ہوئے پل کی طرف چلے بہت سے شناسا چہرے  وہاں موجود تھے  پل کے قریب پہنچے تو عظمی نورانی، حوری، کامران، نونی سب کو دیکھ ہم اور بھی خوش ہوگئے

ساتھ ہی ایک شخص مخصوص سندھی پوشاک میں سجا سجایا  بیٹھا تھا کہنے لگا خاص طور پر سندھ سے آیا ہوں- پھر جانثاران بے نظیر رسی پکڑے سامنے سے گزرے چھوٹی چھوٹی عمر کے، خوب صورت، کالے ملبوس میں مغرور کے بی بی کی حفاظت کررہے ہیں، اور پھر بی بی کا ٹرالر پہنچا
چلے تیر بجاں،،،،،، رقص، جنون نعرے  مگر بی بی ٹرک پر نہ تھیں دیکھ کر مایوسی ہوئی

حوری بولی آگے کیمپ پر بی بی ضرور باھر آئیں گے چلو میں نے اس کا ہاتھ پکڑا روکو، شامین چیخی فوزیہ آنٹی ٹرک کی جانب بڑھنی لگی نثار نے ہاتھ پکڑا رکو، کالے ملبوس میں سجا سجایا شخص آگے بڑھا یم اسے تو نہ روک سکتے تھے پھر اچانک دھماکہ،
یہ کیا ہوا، یہ کیا ہوا، سب لوگ پیچھے ہٹنے لگے، کوئی بولا ٹائر  کی آواز ہے کوئی بولا نہیں پی ایم ٹی ہے ہم پیچھے ہٹ رہے تھے بھت سے لوگ واپس مڑ کر جلوس کی طرف دوبارہ بڑھے

ہم آئی لینڈ کی طرف پولیس چوکی کے قریب تھے کہ کامران نے کچھ دیکھا وہ کسی کا ہاتھ تھا،،، پھر دوسرا دھماکہ، افراتفری لوگ چاروں جانب پہچھے ہٹ گئے- ہماری گاڑی دوسری جانب تھی عظمی حوری کی دوسری جانب ہم پچھلی گلی سے گاری کی جانب بڑھے لوگ بھاگے چلے آ رہے تھے میں نے کسی سے پوچھا بی بی کیسی ہے، اس نے بھاگتے بھاگتے کہا  اللہ کا شکر بچ گئی ہیں- کوئی زخمی لئے جا رہا تھا کوئی زخمی بچانے کوجا رہا تھا

ایک منٹ میں دنیا بدل چکی تھی زخم، خون اور لاشیں ہم گاڑی میں بیٹھے اب صرف ایمبولینس کی آوازیں تھیں آگ تھی، اور سسکیاں تھیں راستے میں خبریں سنیں جلوس میں دو دھماکے 10 افراد ہلاک، گھر پہنچنے تک 20  گھرآتے ہی ٹی وی 40 پھر 80، 100 پھر پھر پھر ،،،،،،،،
آنسو نہ رکے آج تک بہتے آج تک تین سال میں کوئی دن ایسا نہیں کہ میں کارساز سے گزری اور اس دن کے شہیدوں کو یاد نہ کیا ہو ٹی وی پر دیکھا

وہ سجا سجایا شخص لوگوں کے ہاتھوں میں زخمی حالت میں تھا رسی تھامے ان جانثاران کا تو پتہ بھی نہ چلا
تین سال میں میں روز اس جگہ کو دیکھتی ہوں اور سوچتی ہوں  ہمارے ملک میں لوگوں کو نہ خوش ہونے کی اجازت ہے اور نہ دکھی  ہونے کی-
کیا اب لوگ پھر کبھی یوں جشن منا سکیں گے?
مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ تین سالوں میں مجرم پکڑنا تو دور کی بات مرنے والے بدنصیوں کے لیے وہاں کوئی تختی بھی نہ لگ سکی-  کوئی یادگار بھی نہ بن سکی

یہ تو کوئی مشکل کام  نہ تھا یا اس کے لئے بھی امریکا اور فوج کی اجازت نہیں ہے یا پیپلز پارٹی میں اب اتنی ہمت بھی نہیں ہے

ایم کیو ایم کی ریلی

ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کے بعد سے الطاف حسین کو انٹرنشنل اسٹبلشمنٹ کی سازشیں، اور ان کے نتیجے میں اہنی موت بھی قریب نظر آنے لگی ہے، جس کا اظہار انھوں نے بذریعہ خط بھی کیا ہے، انھوں نے مزید کہا ہے کہ بین الاقومی اخبارت میں ان کے اور ان کی پارٹی کے خلاف پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے،حلانکہ ڈاکٹر عمران ان کے پرانے ساتھی تھے اور ان کی موت پر وہ جس ظرح پھوٹ پھوٹ کر روئے وہ قابل دید تھا

یہ اور بات ہے کہ ان کی بیوہ نے لندن میں ان کو کوئی لفٹ نھیں کروائی-
ہائے صدقے جائیں الطاف حسین کے، کہیں یہ چور کی ڈاڑھی میں تنکے والی بات تو نھیں

اٹھائیس جولائی کو ایم کیو ایم نے عافیہ صدیقی کے لئےایک شاندار ریلی بھی نکالی اور عافیہ صدیقی کو جماعت سے چھین کر حلقہ ایم کیو ایم میں میں لے لیا-
اب بیچاری جماعت کیا کرے گی?
مگر فوزیہ صدیقی یہ بھول گئیں کہ  مشرف کے اتحادیوں اور بقول ان کے قوم کی بیٹی کا سودا کرنے والوں کی حکومت میں ایم کیو ایم بھی شامل تھی

ویسے حیرت کی بات ہے ایم کیو ایم کی پاکستان بھر کی ریلیوں میں بم تو دور کی بات ایک پٹاخہ تک نہ چلا، واہ کیا حفاظتی انتظامات ہیں-
کاش باقی تمام مذھبی اور سیاسی جماعتیں ایم کیو ایم سے کچھ سیکھیں- اگر کچھ سیکھا ہوتا تو آج بے نظیر سمیت ہزاروں شہدا آج زندہ ہوتے

Published in: on ستمبر 29, 2010 at 9:26 شام  تبصرہ کریں  

کب تک?

آج میرے ایک دوست نے میرے بلاگ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا-
” کچھ بلاگ بہت بکواس تھے‘ شاید بہت جلدی میں لکھے تھے”

میں اس پر سوچتی رہی‘ کیا میں نے اتنے ہی جلدی میں اور بغیر سوچے لکھا تھا‘ جتنا ہمارا میڈیا خبریں دیتا ہے? بلا سوچے سمجھے اپنے چوبیس گھنٹے پورے کرتا ہے-

تین جاہل مہمانوں کے ساتھ ایک جاہل میزبان ۔۔۔۔ اور ایک گھنٹا پورا ہوا

حکومت جا رہی ہے۔۔۔۔۔
عدلیہ اور حکومت
میں تصادم۔۔۔۔۔
ملک تباہی کے دہانے پر۔۔۔۔۔
چیف جسٹس کی گاڑی کا چالان۔۔۔۔
وینا ملک‘ آصف تنازعہ۔۔۔۔۔
زرداری سوئس اکائونٹ۔۔۔۔۔۔

سب بے معنی اور بکواس۔۔۔۔ وہی گھسے پٹے سیاسی مہمان جن کی وقعت اور طاقت صرف اتنی ہے کہ روزانہ ٹی وی پروگراموں میں شرکت کریں اور دنیا جہاں کو بتایں کہ وہ کتنے جاہل ہیں‘ نہ سننے کا حوصلہ نہ بولنے کی صلاحیت‘ میزبان سب کو "شو شو” کر کے چھوڑ دیتا ہے، اور چہرے کے ایسے تاثر دیتا / دیتی ہے کہ دیکھاکتنے جاہل ہیں یہ (کاشف عباسی، مہر بخاری۔ جاوید وغیرہ وغیرہ

کچھ اور میزبان ہیں جو لوگوں کو بلاتے ہی اس لئے ہیں کہ ان کی تذلیل کی جاسکے، ان کا انداز غصے سے بھرا ہوتا ہے اور وہ چیخ چلا رہے ہوتے ہیں مہمانوں سے زیادہ (جاسمین، کچھ کے نام یاد نہیں ہیں کیوں کہ اتنے ضروری نہ تھے)
کچھ پہلے سے طے کرکے آتے ہیں کہ مہمان سے کیا کہلوانا ہے نہ کہے تو اس کی شامت آ جاتی ہے (کامران خان، شاہد مسعود

کامران خان تو بے چارہ سب سے زیادہ حکومت اور زرادی فوبیا کا شکار ہے-
ہر بات پر ان کی امید بندھ جاتی ہے کہ حکومت اب گئی کہ تب گئی مگر آہ اب تک نہ گئ-
ڈان نیوز کی پوری کوشش اور دعا یہی ہے کہ وہ بھی اسی نچلی سطح پر گر سکیں جن پر باقی چینل ہیں‘ تاکہ ریٹنگ بڑھ سکے

باقی رہ گئے مہمان بے چارے روز کئی کئی چینلوں پر چیخ چیخ کر اتنے تھک جاتے ہیں کہ کوئی مثبت کام کا وقت ہی نہیں بچتا-
مستقل فنکاروں میں شامل ہیں-

احسن اقبال، وسیم  اختر، برگیڈیئر  امتیاز (بے چارے اب تو جیل کی ہوا کھا رہے ہیں مگر جلد ہی لوٹیں گے نئی  توانائی کے ساتھ) عمران خان، وصی ظفر اپنے وقت میں مار کھائی مگر اب عزت سے بلائے جاتے  ہیں۔ پروگرام میں ڈرامہ ڈالنا ہو تو فوزیہ وھاب، گلمیر ڈالنا ہو توماروی میمن، کشمالہ طارق ایکشن کی ضرورت ہو تو فردوس عاشق اعوان، مسٹری مصالہ فیصل رضا عابدی،
کامیڈی اور انٹرٹیمنٹ کے لئے کبھی کبھی الطاف ح
سین سے بھی رابطہ کیا جاتا ہے چپکے چپکے رات دن ۔۔۔۔۔۔۔ زیادہ پرانی بات نہیں-
پنجابی ٹچ کے لئے شھباز شریف، سلمان تاثیر اور نواز شریف موجود ہیں-
اور قانونی ٹچ کے لئے اعتزاز اور بئرسٹر طارق زندہ باد

مگر سوال یہ ہے کہ لوگ کب تک ان کی یہ بے سروپا باتیں سنیں گے، کب تک سنسنی خیز بریکنگ نیوز سے دہل دہل کر جیئں گے-

کیا کبھی پاکستان میں غیرجانبدارنہ تحقیقاتی صحافت  ہو گی-

کب ہم ھاتھ میں مائیکرو فون پکڑ کر مرنے والے کی ماں سے یہ پوچھنا بند کریں گے کیسا لگ رہا ہے?
کب تک بکرا منڈی میں جا کر بکروں کی مہنگائی کا ذمہ دار زرداری کو ٹھرائیں گے

کب تک ۔۔۔۔۔۔
کب تک۔۔۔۔۔۔۔
کب تک۔۔۔۔۔۔

تو میرے دوست جب تک یہ بہت سی بکواسیں چل رہی ہیں تو میں بھی کبھی کبھبار بکواس کر سکتی ہوں-

ہیں نا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Published in: on ستمبر 24, 2010 at 11:46 شام  تبصرہ کریں  

کیا پاکستان وہابی، سنی اسٹیٹ بن چکا ہے

کوئٹہ: جلوس میں دھماکے سے بیالیس افراد ہلاک

احمدیوں کی عبادت گاہ پر حملہ، دو ہلاک

لاہور: خود کش دھماکوں میں سینتیس افراد ہلاک

کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے بدھ کی شام لاہور میں ہونے والے خود کش حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

کراچی میں عاشورہ پر دھماکے

چالیسویں پر دھماکے

روز دھماکے بم بلاسٹ کیا  یہ ظاہر نہیں کرتے کہ ہم شہری، حکومتیں، انتظامیہ، اور سب کے سب کتنے بے بس ہیں-
ہوں لگتا ہے  کہ دھشت گرد اس ملک میں نہیں ہم دھشت گردون کے ملک میں رہیتے ہیں- بے بس، لاچار، لاشیں اٹھانے کے لئے، آنسو بہانے کے لئے-

چند دن سوگ پھر نیا دھماکہ نیا سوگ نئے آنسو-

کچھ سوالات جو اکثر خود  سے پوچھتی ہوں-
جو لوگ گرفتار کئے جاتے ہیں وہ کیا معلومات فراہم کرتے ہیں- ان کی بنیاد پر کتنی گرفتاریاں ہوتی ہیں?

تحریک طالبان اور دیگر دھشت گرد تنظمیں کیا پولیس،فوج، اور امریکا سے زیادہ طاقتور ہیں کہ ان کا سدباب نہیں کیا جا سکتا?

ان دھشت گردوں تک اسلحہ اور سپلائیز کیسے پہنچتی ہیں کیا ان کو روکا نہیں جا سکتا?

کیا ان کا قبضہ اس ملک کی وفاقی، اور صوبائی حکومتوں پر بھی ہے نہیں تو ان کا نام نشاں کی کسی کو کیوں خبر نہیں?
کیا پاکستان صرف وہابی مسلم اسٹیٹ بن چکا ہے جہاں کسی اور کو جینے کی اجازت نہیں?

کیا اس ملک کی سلامتی اوربھتری کی کوئی گنجائش باقی ہے، یا یہ ملک ایسے ہی سسک سسک کر چلتا رہے گا?
کیا ہم سب کے اردگرد یہ مدرسے، ملا، اور خوں ریزی ایسے ہی بڑھتی جائے گی?

کیا میرے اورآپ کے بچے جواں ہو سکیں گے?

کیا کبھی، کوئی اس کا حل ڈوھونڈ سکے گا یا ہمیں روز مر مر کر ہی جینا ہوگا?

Published in: on ستمبر 3, 2010 at 3:33 شام  تبصرہ کریں